×

معاشرتی کنجوسی

جمع� کے دن �م بورسا میں تھے‘ عثمان غازی کے مزار پر گارڈز تبدیل �و ر�ے تھے‘ عثمانی دور کا طبل بجا اور قائی قبیلے کی یونی�ارم میں دو خوب صورت جوان کل�اڑے اور تلواروں کے ساتھ لی�ٹ رائیٹ‘ لی�ٹ رائیٹ چلتے مزار کے سامنے پ�نچ گئے‘ پرچم کو بوسا دیا‘ پرانے گارڈز سے مزار کا چارج لیا اور سین� تان کر دروازے کے دائیں بائیں کھڑے �و گئے‘ �م خیالوں نے گارڈز کی تبدیلی کی �لم بنائی اور لنچ کے لیے روان� �و گئے‘ عثمان غازی کے مزار کے ساتھ تین قدیم ریستوران �یں۔

ی� تینوںش�ر کے ب�ترین کباب �اﺅس �یں‘ آپ کو ان سے اچھا ادن� اور عر�� کباب پورے بورسا میں ن�یں ملتا‘ �م لنچ کرر �ے تھے‘ اچانک �مارا گائیڈ ظ�ر آیا اور اس نے انت�ائی دکھی آواز میں ک�ا‘ ترکی میں کل سے لاک ڈاﺅن شروع �و ر�ا �ے‘ استنبول صبح دس بجے کھلے گا اور رات آٹھ بجے بند �و جائے گا اگر صورت حال کنٹرول ن� �وئی تو مکمل لاک ڈاﺅن �و جائے گا‘ ظ�ر کا ک�نا تھا �میں لنچ کے �وراً بعد استنبول کے لیے روان� �ونا �وگا‘ �م اگر لیٹ �و گئے تو �وٹل تک ن�یں پ�نچ سکیں گے‘ ظ�ر کی آواز میں اضطراب تھا لیکن �مارے گروپ نے اطمینان سے ی� بری خبر سنی‘ سر �لایا اور گردن نیچی کر کے کبابوں پر دوبار� حمل� کر دیا‘ گائیڈ مزید پریشان �و گیا اور اس نے میرے کان میں سرگوشی کی �آپ لوگ کورونا کو سیریس کیوں ن�یں لے ر�ے‘ استنبول میں روزان� ڈیڑھ دو سو لوگ مر ر�ے �یں‘ �م لوگوں نے آٹھ ما� سے ماسک ن�یں اتارے مگر آپ لوگ کورونا کو مکھی کی طرح اڑا دیتے �یں“ میں نے �نس کر جواب دیا ��م ب�ادر لوگ �یں“ اس نے سنجیدگی سے میری طر� دیکھا اور کھوئے کھوئے ل�جے میں ک�ا � ٹو مچ“۔ظ�ر کی پریشانی بجا تھی‘ �مارا گروپ 18 نومبر کو ترکی پ�نچا‘ �م استنبول سے بورسا گئے‘ بورسا سے ارطغرل کے ش�ر صغوط‘ پھر بورسا اور پھر استنبول �میں پورے علاقے میں ماسک کے بغیر کوئی شخص نظر ن�یں آیا۔

لوگ لوگوں سے �اصلے پر بھی ر�تے تھے‘ کوئی کسی کا �اتھ ن�یں پکڑتا تھا‘ کوئی کسی سے بغل گیر �و ر�ا تھا اور ن� �اتھ ملا ر�ا تھا‘ لوگ دور سے دوسروں کو سلام کرتے تھے‘ جھک کر �اصلے سے گ�تگو کرتے تھے اور دکانوں‘ میٹروز اور سڑکوں پر بھی چھ چھ �ٹ کا �اصل� رکھ ر�ے تھے صر� �م لاپروا� لوگ تھے جو �ٹا�ٹ ماسک اتار دیتے تھے یا پھر اسے کھسکا کر ٹھوڑی پر لٹکا دیتے تھے‘ �م میں سے جوں �ی کوئی شخص ی� حرکت کرتا تھا لوگ تیزی سے �ماری طر� آتے تھے اور ماسک ماسک کا نعر� لگا نے لگتے تھے اور ظ�ر �وراً �چاچاماسک“ کا نعر� لگا دیتا تھا۔

�ر دکان‘ �ر کاﺅنٹر‘ �ر باتھ روم‘ بس اور �ر میٹرو سٹیشن پر بھی سینی ٹائزر کی بوتل رکھی تھیں‘ ترکی میں بوتل کو �اتھ ن�یں لگایا جاتا‘ بوتلوں میں سینسر لگے �وتے �یں‘ آپ �اتھ نیچے رکھتے �یں‘ چیں کی آواز آتی �ے اور �اتھ پر پچکاری آ گرتی �ے‘ دکانوں اور کوریڈورز میں سٹینڈز پر بوتلیں لگا دی جاتی �یں‘ پاﺅں کے پاس ان کا لیور �وتا �ے‘ آپ پاﺅں سے لیور کو ذرا سا دباتے �یں اور �اتھ پر پچکاری آ جاتی �ے‘ �م نے چھ دن میں دیکھا ترک گھروں میں بھی ماسک کے بغیر ن�یں تھے اور ی� کوئی چیز پکڑتے یا دیتے وقت سینی ٹائزر ضرور لگاتے تھے۔

��تے کی شام آٹھ بجے لاک ڈاﺅن شروع �و گیا‘ آپ یقین کریں پورا استنبول آٹھ بجتے �ی خالی �و گیا‘ گلیوں اور سڑکوں پر پولیس اور کتوں کے علاو� کوئی ن�یں تھا‘ تمام ریستوران‘ دکانیں‘ بسیں‘ ریل اور �یریز بند تھیں‘ ٹیکسیاں بھی غائب �و گئی تھیں اور صبح دس بجے تک دنیا کے متحرک اور مصرو� ترین ش�ر میں �وکا عالم تھا‘ �وٹل کی کھڑکی سے با�ر دیکھتے تھے تو بارش کے علاو� کوئی چیز دکھائی ن�یں دیتی تھی‘ دس بجے کے بعد بھی ٹری�ک اور بازاروں میں سلیق� تھا‘ کسی جگ� رش یا �ڑبونگ ن�یں تھی۔

�م اتوار کی صبح گیار� بجے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر حاضر �وئے‘ مزار تک پ�نچنے کے دو راستے �یں‘ آپ گلیوں کے ذریعے سیدھے سلطان ایوب آ جائیں یا گولڈن �ارن سے چیئر ل�ٹ کے ذریعے پ�اڑ پر پ�نچ جائیں‘ پورے استنبول کا نظار� کریں اور پھر قدیم سنگی گلیوں کے اندر سے �وتے �وئے مزار تک آ جائیں‘آپ کو راستے میں دائیں بائیں اور اوپر نیچے طویل قبرستان نظر آئیں گے اور ان قبرستانوں میں چھ سو سال سے مشا�یر‘ امرائ‘ دانشور‘ شاعر اور شا�ی خاندانوں کے مرکزی ستون د�ن �یں۔

�ر قبر ایک تاریخ �ے اور �ر تاریخ ایک داستان �ے‘ ان قبروں کے درمیان پیری لوٹی کا ٹیرس اور ریستوران بھی �ے‘ پیری لوٹی �رنچ تھا‘و� بھی ایک کمال کردار تھا‘ و� استنبول آیا‘ ترکوں کا �ین �وا اور پ�لی جنگ عظیم کے دوران ترکوں کے ساتھ اپنے ملک کے خلا� لڑا‘ ی� حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا روحانی مرید بھی تھا‘ اس نے پوری زندگی سلطان ایوب کے علاقے میں گزار دی‘ ترکوں نے بھی اس کی خدمات یاد رکھیں چناں چ� آپ اگر کبھی سلطان ایوب کے علاقے میں جائیں تو پیری لوٹی کے ٹیرس اور ریستوران پر ضرور جائیں۔

میں آگے بڑھنے سے پ�لے آپ کو ی� بھی بتاتا چلوں ترک جب کسی کو دل سے عزت دیتے �یں تو ی� اسے سلطان کا خطاب دے دیتے �یں‘ ی� حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا انت�ا سے زیاد� احترام کرتے �یں چناں چ� ی� ان�یں سلطان ایوب ک�تے �یں اور ی� پورا علاق� اس مناسبت سے سلطان ایوب ک�لاتا �ے ل�ٰذا آپ اگر میزبان رسول کے مزار پر حاضری دینا چا�تے �یں تو آپ کسی بھی ٹیکسی والے کو سلطان ایوب ک�یں ‘ ی� آپ کو سیدھا مزار پر لے جائے گا۔ میں کورونا کی طر� واپس آتا �وں‘ �م ل�ٹ پر پ�نچنے والے پ�لے لوگ تھے‘ و�اں بھی سناٹا تھا‘ ایک باکس میں پانچ لوگ بیٹھ سکتے تھے اور انتظامی� اس کا مکمل خیال رکھ ر�ی تھی۔

مزار کے احاطے میں بھی سوشل ڈسٹینس اور ماسک لازم تھا اور لوگ اندھی عقیدت میں بھی قانون کی حد پار ن�یں کر ر�ے تھے‘ حکومت نے پورے ملک میں ریستوران بند کیے اور ی� پھر بند �وئے‘ استنبول میں اس کے بعد کوئی ریستوران کھلا اور ن� کچن چلا‘ لوگ صر� �ٹیک اوے“ کر سکتے تھے اور اس کے لیے بھی لائین میں چھ �ٹ کا �اصل� ضروری تھا‘ تین چار سے زیاد� گا�ک اندر ن�یں جا سکتے تھے اور لوگ با�ر اطمینان سے لائین میں کھڑے �وتے تھے۔

میں ترکی سے ضرورت سے زیاد� متاثر �وں مگر سوال ی� �ے میں ترکی سے متاثر کیوں ن� �وں؟ ی� حقیقتاً زبردست لوگ �یں‘ دل سے قانون کا احترام کرتے �یں‘ حکومت نے اگر ماسک کا حکم دے دیا تو پھر ی� ماسک پ�نیں گے خوا� ان کے کان اڑا جائیں یا ماسک چ�رے کی جلد میں اتر جائے‘ ملک میں اگر لاک ڈاﺅن �ے تو پھر لاک ڈاﺅن �ے‘ لوگ پھر با�ر ن�یں نکلیں گے‘ حکومت نے اپریل میں ٹوریسٹ گائیڈز کو ماسک اور سینی ٹائزر کا حکم دیا تھا‘ �مارے گائیڈ ظ�ر نے بتایا میں آٹھ ما� میں ماسک کے بغیر گھر سے ن�یں نکلا۔

میں نے اپنے چ�رے اور من� کو �اتھ ن�یں لگایا اور میں نے ٹشو پیپر کے بغیر کوئی درواز�‘ کوئی لاک ن�یں کھولا‘ اس نے اس کے ساتھ �ی اپنے �اتھ دکھائے‘ اس کی جلد میں سلوٹیں پڑی �وئی تھیں‘ اس نے ان سلوٹوں کو دبا کر بتایا ی� سینی ٹائزر کا ری ایکشن �ے لیکن میں اس کے باوجود اس وقت تک سینی ٹائزر استعمال کرتا ر�وں گا جب تک حکومت ملک کو �کورونا �ری“ ڈکلیئر ن�یں کرتی اور ی� و� سپرٹ �ے جس سے پاکستانی قوم محروم �ے‘ آپ نے کورونا کے دوران پاکستانیوں کا ردعمل بھی دیکھا �و گا۔

�م لاک ڈاﺅن میں بھی سڑکوں پر �وتے تھے‘ ماسک آٹھ ما� میں �مارا حص� ن�یں بن سکا‘ �م آج بھی �اتھ ملاتے �یں اور دوسروں سے بغل گیر �ونے کا کوئی موقع ضائع ن�یں کرتے‘ �م نے سماجی �اصلے کو بھی مذاق بنا لیا �ے‘ آپ کسی جگ� چلے جائیں آپ کو لوگ لوگوں کے کندھوں پر سوار نظر آئیں گے‘ ملک میں روزان� لوگ مر ر�ے �یں‘ آپ حکومت اور اپوزیشن کے جلسوں سے لے کر مولانا خادم حسین رضوی کے جنازے تک قوم کا روی� دیکھ لیں‘ آپ کو کسی جگ� کورونا کے �ایس او پیز“ نظر ن�یں آئیں گے۔

وزراءتک ماسک ن�یں پ�نتے اور �اتھ صا� ن�یں کرتے‘ ی� بھی دوڑ کر دوسروں سے بغل گیر �و جاتے �یں چناں چ� ملک میں کورونا کی صورت حال بد سے بدتر �وتی جا ر�ی �ے‘ آپ اس سے ریاست کی رٹ اور طاقت کا انداز� کر لیجیے یعنی جو ریاست آٹھ ما� میں قوم کو ماسک ن�یں پ�نا سکی‘ آپ اس سے کیا توقع کر سکتے �یں‘ ی� قوم کو کیا ٹھیک کرے گی اور جس قوم کی ترجیحات میں اپنی اور اپنے خاندان کی صحت اور زندگی بھی شامل ن�یں آپ اس کے بارے میں کیا سوچیں گے ل�ٰذا میری سمجھ دار اور تجرب� کار لوگوں سے درخواست �ے آپ م�ربانی کریں آپ نے جتنی زندگی گزارنی تھی آپ نے گزاری لی۔

آپ اب خدا خو�ی کر یں اور لوگوں کو سمجھانا شروع کر دیں‘ آپ لوگوں کی تربیت کریں‘ آپ یقین کریں �مارے لوگوں کو بولنا‘ دوسروں کو بلانا‘ �اتھ دھونا‘ کھانا کھانا‘ موبائل �ون پر بات کرنا اور کپڑے پ�ننا ن�یں آتا اور اس میں ان بے چاروں کا بھی کوئی قصور ن�یں‘ �م نے ان�یں بتایا �ی ن�یں �مارے لوگ ارب پتی �وں گے لیکن ان کا آزار بند لٹک ر�ا �و گا‘ ی� شوں شوں کر کے چائے پئیں گے‘ ڈھول جتنا ڈکار ماریں گے اور کسی کو بھی اونچی آواز میں �اوئے ایدر آ“ کا نعر� لگا کر بلا لیں گے۔

 �میں آج تک کسی نے وضو کرنا بھی ن�یں سکھایا‘ �م وضو کرتے �وئے دوسروں کے کپڑے گیلے کر دیتے �یں اور �م مر جاتے �یں لیکن کسی کا شکری� ادا ن�یں کرتے اور ی� کس کا قصور �ے؟ ی� ان لوگوں کا قصور �ے جن�یں الل� نے علم‘ عقل اور ادب سے نواز� تھا مگر ی� لوگ اس خزانے پر سانپ بن کر بیٹھ گئے اور ی� آج تک کسی کو ناک صا� کرنے کا طریق� بھی ن�یں سکھا سکے چناں چ� میں خود کو بھی مجرم سمجھتا �وں اور اپنے جیسے دوسرے ثقا�تی کنجوسوں کو بھی‘ معاشرے میں جتنی بے ادبیاں �یں �م اس کے ذم� دار �یںاور �میں ی� ذم� داری قبول کرنا �وگی۔

The post JavedCh.Com.

اپنا تبصرہ بھیجیں