×

کیا موٹرز کا مزید 3 نئی گاڑیاں متعارف کرانے کا فیصلہ

کراچی (این این آئی) کیا موٹرز نے پاکستان میں مزید گاڑیاں سورینٹو، نائیرو اور کیراٹو متعارف کرانے کی تیاری کرلی، جس میں تقریبا ایک سال کا عرصہ لگے گا۔

ذرائع کے مطابق کمپنی پہلے سے متعارف کرائی گئی اپنی گاڑیوں ایس یو وی اسپورٹیج، ہیچ بیک پکانٹو اور منی وین کارنیوال کے ماڈلز میں بھی اضافہ کرنے پر غور کررہی ہے۔

کیا موٹرز سورینٹو، کیراٹو اور نائیرو کے نام سےنئی گاڑیاں بھی متعارف کرانا چاہتی ہے جن میں مہنگی ترین گاڑی سیڈان اسٹنگر بھی ممکنہ طور پر شامل ہوسکتی ہے۔

تاہم کیا شو روم کے ایک سیلز پرسن نے بتایاکہ سیڈان اسٹنگر

کے انتہائی مہنگا ہونے کے باعث اس کے امکانات بہت کم ہیں۔

سیلز پرسن نے مزید بتایا کہ کمپنی میں ایسی باتیں سننے میں آئی ہیں کہ کیراٹو جو سیڈان کار ہے، جلد متعارف کرائی جاسکتی ہے، تاہم انہیں دیگر گاڑیوں سے متعلق پورا یقین نہیں۔

کیراٹو کا انجن 1600 سی سی اور 2000 سی سی تک ہے۔جے ایس گلوبل کیپیٹل کے سینئر ریسرچ انالسٹ احمد لاکھانی نے اس ضمن میں بتایا کہ کیا موٹرز میں موجود ان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ کمپنی 4 نئی ماڈلز متعارف کرانے چاہتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ کمپنی دو مزید ایس یو ویز اور سیڈان بھی متعارف کراسکتی ہے۔نائیرو ہائیبرڈ ایس یو وی ہے جس کا الیکٹرک ورژن بھی موجود ہے۔

سورینٹو بھی درمیانے سائز کی 2500 سی سی انجن والی ایس یو وی ہے جو اسپورٹیج 2000سی سی سے بڑی ہے۔کیا موٹرز پاکستان میں گرین فیلڈ اسٹیٹس کے تحت گاڑیاں تیار کررہی ہے، جو اسے حکومت کی آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی 21-2016 کے بعد حاصل ہوا۔

حکومت کی جانب سے اس پالیسی کا اجرا غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اور آٹو سیکٹر میں مسابقت کر بڑھانے کیلئے کیا گیا تھا، جہاں تین جاپانی کمپنیوں ہونڈا، ٹویوٹا اور سوزوکی کی طویل عرصہ سے اجارہ داری قائم تھی۔

اے ڈی پی 21-2016 پالیسی کا خاتمہ جون 2021 میں ہوگا اور انڈسٹری میں شامل ہونیوالی نئی کمپنیوں کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے نئے ڈیزائنز پر ڈیوٹی میں سہولت کیلئے غور کیا جائے گا۔

تمام کمپنیاں اے ڈی پی 21-2016 پالیسی کے خاتمے تک جتنےچاہیں نئے ماڈلز متعارف کراسکتی ہیں۔کیا حکام نے نئی گاڑیاں متعارف کرائے جانے پر خاموشی اختیار کرتے ہوئے اس حوالے سے تفصیلات دینے سے انکار کردیا۔

تاہم انہوں نے تصدیق کی ہے کہ کمپنی پاکستان میں نئی گاڑیاں متعارف کرانے پر غور کررہی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں