×

قرآنی معجزہ شمسی سال اور قمری کیلنڈر

عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ قمری سال کا نظام ماہ و سال کے پیمانے کے لئے ’’اسلامی‘‘ ہے اورشمسی کیلنڈر غیر اسلامی۔

کیا یہ تاثر درست ہے؟ اگر درست ہے تو اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اگر قرآن مجید نے واقعی قمری نظام الاوقات کو کوئی خاص اہمیت دی ہے تو اس کی کیا حکمت ہے؟ انہی سوالوں کا جواب ہمیں اس تحریر سے مل سکتا ہے۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہاس نے قمری مہینوں کو عبادات اور تہواروں کے لئے منتخب کر لیا ہے۔ گویا ہم کہہ سکتے ہیں کہ قرآن کے

نزدیک زندگی کے نظام الاوقات کے قمری کیلنڈر کی فوقیت بہر کیف مسلم ہے۔

اب قمری مہینوں کے دنوں کا تعین تو چاند کے دکھائی دینے پر ہوتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہم سال کے معمولات کا متعین پروگرام نہیں بنا سکتے کیونکہ ہمیں معلوم نہیں ہوگا کہ فلاں دن جمعرات کو آ رہا ہے یا جمعہ کو کیونکہ یہ تو چاند کا دکھائی دینا طے کرے گا کہ متعلقہ دن کب آ رہا ہے۔

یوں آج کے سائنسی دور میں پلاننگ یعنی منصوبہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ آپ یقیناً یہ جواب دے سکتے ہیں کہ سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے اکثر عرب ممالک نے سائنس کی مدد سے چاند کے ظاہر ہونے کا وقت پیشگی معلوم کر لیا ہے لہٰذا اب کوئی مسئلہ باقی نہیں رہا۔

لیکن میرا سوال پھر بھی باقی رہتا ہے کیونکہ اول تو بعض علماء اس چیز کے خلاف ہیں کہ چاند کا دیکھا جانا پہلے سے متعین کر دیا جائے۔

ان کے خیال میں چاند کو دیکھ کر ہی فیصلہ کیا جائے گا کہ مہینہ شروع ہوا یا نہیں۔ پھرآپ یقیناً اتفاق کریں گے کہ یہ سائنسی سہولتیں تو آج کے دور کی پیداوار ہیں۔

جب سائنس نے یہ ترقی نہیں کی تھی تو اس وقت تو بہرکیف یہ دقت موجود تھی ٗ اس لئے براہ کرام یہ ضرور بتائیں کہ آخر قمری کیلنڈر اختیار کرنے میں قرآن کی کیا حکمت ہے؟ مجھے امید ہے کہ آپ اس اہم سوال کا جواب ضرور دیں گے۔

دراصل اس سوال کا ایک حصہ غلط فہمی پر مبنی ہے وہ یہ کہ قمری ہی مہینوں کو قرآن مجید نے اسلامی قرار دیا ہے اور اس کا لازمی نتیجہ ہے کہ شمسی مہینے غیر اسلامی ہیں۔

یہ بات تو درست ہے کہ قرآن مجید نے رمضان المبارک اور حج کیلئے ذی الحج ہی کے مہینوں کا انتخاب کیا ہے لیکن اس سے بس یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس نے عبادت کے لئے قمری مہینوں کا نام لیا ہے اور ہم پر لازم ہے کہ ہم انہی قمری مہینوں کو مذکورہ عبادت کے لئے اختیار کریں۔

یہ درست نہیں ہو گا کہ ہم ان مہینوں کے علاوہ کسی اور مہینوں یا شمسی کیلنڈر کے کسی اور مہینوں کا انتخاب کریں۔ لیکن یہ بات غلط فہمی پر مبنی ہے کہ شمسی نظام کوئی غیر اسلامی نظام الاوقات ہے۔

پہلے ہم سوال کے اسی حصے پر بحث کریں گے کہ عبادات کے لئے قمری مہینوں کی کیا اہمیت و فضیلت اور حکمت ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ قمری مہینے موسم کے تعین سے آزاد ہیں۔

یعنی رمضان کا مہینہ ہر قسم کے موسم میں آتا ہے۔ سردیوں میں بھی اور گرمیوں میں بھی ٗ موسم بہار میں بھی اور خزاں میں بھی۔

یعنی روزے گرمیوں کے مہینے میں بڑے طویل اور مشکل بھی ہوتے ہیں اور سردیوں میں مختصر اور آسان بھی یہی معاملہ حج کے ساتھ ہے اور یہی اس کی حکمت ہے۔

قرآن مجید کا یہ معجزہ ہے کہ اس نے عبادت کے لئے ایسا کیلنڈر اختیار کیا جو کہ انسان کی تربیت کے لئے بہترین تھا۔ورنہ یہ ہو سکتا تھا کہ اللہ گرمیوں کا مہینہ مقرر کر دیتا اور دنیا کے کسی خطے میں یہ مہینہ مسلمانوں کے لئے سخت ہوتا اور کسی کے لئے ہمیشہ کے لئے بہت آسان۔

کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ دنیاکے مختلف ملکوں میں شمسی مہینوں کا موسم ایک سا نہیں ہوتا ٗ مختلف ہوتا ہے۔ چنانچہ یہ کسی طور پر جائز اور انصاف کے مطابق نہ ہوتا کہ مغرب کے ممالک کے رہنے والوں کے لئے روزے آسان ہوتے اور ایشیا والوں کیلئے سخت۔

انصاف کا تقاضا یہی تھا کہ ہر ملک اور ہر خطے کے لوگ پر موسم کی سختیاں اور سہولتیں لیتے۔ یہی وہ حکمت اور انصاف کا تقاضا تھا جس کوملحوظ رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں قمری مہینوں کو عبادات کے لئے منتخب کیا۔

چنانچہ عرب میں چونکہ گرمیوں کا موسم انتہائی سخت ہوگا ہے ٗاس لئے مکہ کے لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے حج کے لئے سردی کا موسم منتخب کرلیا تاکہ ان کے لئے آسانی رہے۔

اس مقصد کے لئے انہوں نے ’’نسئی‘‘ کا نظام اختیار کر لیا تھا۔ اس نظام کے تحت وہ بعض مہینوں میں اتنے دنوں کا اضافہ کر دیتے کہ اگلے سال حج کا موسم پھر سردی ہی کے آسان موسم میں آتااس بدعت کا مقبول ترین طریقہ یہ ہوتا کہ وہ آٹھ ماہ بعد ایک پورا مہینہ فرضی پر کیلنڈر میں ڈال دیتے اور اسے کبیسہ کا مہینہ کہتے۔

قرآن مجید نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ’’بے شک مہینوں کی تعداد اللہ کے ہاں نوشتہ الٰہی میں جس دن سے اس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں یہی دین قیم ہے تو تم ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ ڈھانا‘‘…یہ نسئی کفر میں ایک اضافہ ہے جو کافروں کی گمراہی کا ایک ذریعہ بنائی گئی ہےکسی سال اس کو حلال ٹھہرا دیتے ہیں کسی سال حرام‘‘ (سورۃ توبہ) لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری پیغمبر حضرت محمدؐ کو آخری شریعت دینا تھی اور وحی کا سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کر دینا تھا ٗ اس لئے عربوں کی اس بدعت کو ختم کرنے کا بھی انتظام کیا تاکہ ملت ابراہیم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے اللہ کے بنائے ہوئے نظام کی حکمت سے بہرہ ور ہو سکے۔

اللہ نے یہ انتظام اپنے پیغمبر کے ہاتھوں سے لیا۔ ہوا یہ کہ جس برس حضورؐ نے حج کیا ٗ اس برس 33 برسوں کے بعد وقت ٹھیک اسی جگہ پر آ گیا تھا جو اس کا اصل متاع تھا۔

یعنی اگر اس برس روزے 22 نومبر کو شروع ہوتے ہیں ٹھیک 36 برس کے بعد جو رمضان المبارک آئے گا وہ بھی 22 نومبر ہی کو آئے گا۔

یہی معاملہ حضورؐ کے دور میں ہوا۔چنانچہ تاریخ کے طالب علم جانتے ہیں کہ جب صلح حدیبیہ کے بعد آپ اگلے برس حج پر جا سکتے تھے لیکن آپ نے اس برس حج ادا کرنے کے بجائے اگلے برس ادا فرمایا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ عربوں کی ’’نسئی‘‘ کی بدعت کے باعث پچھلے سال حج اپنے قدرتی وقت سے 10 دن پہلے پڑتا ہے اور آپ نے فرمایا کہ اگلے برس حج اپنے قدرتی اور اصل وقت پر آئے گا تو حج ادا کیا جائے گا۔

یوں خود اللہ نے اپنے آخری پیغمبر کے ذریعہ سے قمری نظام الاوقات کی حکمت بھی واضح کر دی اور عربوں کی زمانہ جاہلیت سے جاری بدعت کا بھی خاتمہ کر دیا اور یہ وہی مشہور حج ہےجو آپ ؐ نے ادا کیا اور جس میں اپنا آخری خطبہ ارشاد فرمایا۔

اب ہم آتے ہیں سوال کے دوسرے حصے کی طرف وہ یہ کہ عبادت کے مہینوں میں قمری مہینے کے انتخاب کا لازمی تقاضا ہے کہ شمسی کیلنڈر کو اختیار نہ کیا جائے۔

یہ ویسا ہی استدلال ہے جیسا کہ یہ کہا جائے کہ اللہ نے جہاد کرنے کے لئے قرآن مجید میں گھوڑوں اور تلواروں کے استعمال کا ذکر کیا ہے ٗ اس لئے اب جہاد کے لئے انہی ہتھیاروں کا استعمال جائز ہو گا! صاف ظاہر ہے یہ استدلال کسی طور پر درست نہیں اور اگر یہ استدلال درست ہے تو پھر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ شمسی مہینوں کو زندگی کے باقی معمولات اور نظام الاوقات کے لئے اختیار کرنا درست نہیں۔

دراصل چاند اور سورج دونوں اللہ کی مخلوقات ہیں۔اللہ نے دونوں کو اپنی نعمتیں قرار دیا ہے اوردونوں کے بارے میں خود قرآن میں بیان کیا ہے کہ ہماری اس نعمت سے لوگ دنوں کا تعین کرتے ہیں۔

اس لئے یہ کہنا درست نہیں شمسی کیلنڈر غیر اسلامی ہے۔ اب جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جدید ذرائع سے چاند کے دیکھے یا نہ دیکھے جانے کا تعین وقت سے پہلے ہوسکتا ہے یا نہیں تو اس وقت کثیر علماء کی یہی رائے ہے اس میں کوئی حرج نہیں ٗ کیونکہ ایک تو اس حکم کی حکمت مجروح نہیں ہوتی دوسرے یہ کہ سائنسی آلات بغیر کسی غلطی کے درست اطلاع دیتے ہیں اور ان کی خبر آنکھ سے دیکھے گئے چاند سے زیادہ مضبوط اور درست ہوتی ہے۔

اس سے اختلافات بھی ختم ہوتے ہیں اور قمری مہینوں پر وہ اعتراض بھی ختم ہو جاتا ہے جو کہ مذکورہ سوال میں بیان کیا گیا ہے کہ پیشگی منصوبہ بندی نہیں ہو سکتی۔

اب آخر میں ایک اصولی بات وہ یہ کہ قرآن مجید کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے نہ ہمیں سائنس سکھائی ہے اور نہ دنیا کے علوم۔

اس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے فقط ہمیں وہ اخلاقی اصول سمجھائے ہیں جن کو انسان اپنی عقل سے متعین کرتا تو غلطی کر سکتا تھا۔

یعنی انسان اپنی عقل سے دنیا کے معاملات کو چلانے کے لئے شمسی نظام الاوقات اختیار کرے یا قمری نظام الاوقات۔ قرآن مجید نے اس سلسلے میں کوئی تفریق نہیں کی اس نے بس عبادات اور وہ بھی روزے اور حج کے لئے ٗ مہینوں کو متعین کیا ہے اور اس کی حکمت بھی تھی اور ضرورت بھی۔

اس لئے یہ اعتراض ہی درست نہیں کہ قرآن مجید شمسی مہینوں کے خلاف ہے۔ یہ محض قلت تدبر کا نتیجہ ہے مزید یہ کہ سعودی عرب نے قمری کیلنڈر کو اختیار کیا ہوا ہے اور وہاں اس سے کوئی خرابی پیدا نہیں ہوئی۔

سعودی عرب کے اس نظام سے ان کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں پڑی بلکہ انہوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو بھی محفوظ رکھا اور دنیا کے معاملات کو بخوبی چلایا اور عملی طور پر اس اعتراض کو رد کردیا کہ قمری نظام الاوقات کوئی ناقابل عمل اور پچھلے دور کا نظام الاوقات ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں